بنگلورو:30/ جون (ایس او نیوز) مرکزی حکومت کی طرف سے آج رات سے لاگو کئے جارہے یکساں مال برداری اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ پر کانگریس کو کوئی اعتراض نہیں، لیکن اس کے نفاذ کی شروعات کیلئے آدھی رات کو تقریب منعقدکئے جانے پر اعتراض ہے، یہ بات آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہی، بلگام کے اتھنی میں مختلف سرکاری تقریبات کے دوران اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سدرامیانے کہاکہ مرکزی حکومت نے جی ایس ٹی قانون نافذ کرنے کیلئے پارلیمان کے مرکزی ہال کو جلسہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ غلط ہے۔ پارلیمان کے مرکزی ہال کا ایک الگ ہی مقام ہے، پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کیلئے اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔اس ہال کی اہمیت کو پامال کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے ایک سیاسی جلسہ منعقد کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ غلط ہے۔ سدرامیا نے کہاکہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے ریاستی خزانے پر بھاری اثر پڑے گا اور زبردست خسارہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مرکزی حکومت نے اس خسارہ کو اگلے پانچ سال کے دوران برداشت کرنے کا تیقن دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہاکہ شمالی کرناٹک کے علاقوں میں لفٹ آبپاشی منصوبوں کی تعمیر کی کافی مانگ ہے۔اسی لئے انہوں نے کسانوں کی مانگ کو منظور کرتے ہوئے 1350 کروڑ روپیوں کی لاگت پر لفٹ آبپاشی پراجکٹ کی شروعات کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے، اس سے یہاں کے ہزاروں کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے ہمراہ وزیر آبپاشی ایم بی پاٹل، سابق وزیر رمیش جارکی ہولی، رکن اسمبلی راجیو کاگے، لکشمن ساؤدی وغیرہ موجود تھے۔